اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملے جہاز رانی کی آزادی اور تحفظ کے لیے خطرہ ہیں۔
ترجمان کے مطابق بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں 3 پاکستانی جاں بحق ہوئے، جن کی میتیں پاکستان لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کے حوالے سے قائم اتحاد کا حصہ ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ معاہدہ واضح ہے، جس کے مطابق ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
ترجمان نے قومی قیادت یا ریاستی اداروں کے درمیان مکہ معاہدے کے حوالے سے اختلاف کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ صرف تین ممالک تک محدود نہیں بلکہ تینوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں اہم پیشرفت ہے۔
ان کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہے اور پاکستان نے اس معاہدے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان آئندہ بھی خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسلام آباد ایم او یو کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور پاکستان امن کے لیے پرامید ہے۔ ڈیڈ لائن پر عمل نہ ہونے کے باوجود بات چیت کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن،سلامتی اور خوشحالی کیلئے ہے ،وزیراعظم
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے معاہدے کو بھی انتہائی اہم قرار دیا، جبکہ ایران میں فوجی قیادت کی تبدیلی کو اس کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان، امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول نیوکلیئر ڈیل کا جائزہ لے رہا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے سول نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے اس کے حق کا احترام کرتا ہے۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان مالیاتی شفافیت کے حوالے سے بین الاقوامی معیار پر عمل پیرا ہے اور پاکستان نے کامیابی سے آئی ایم ایف کے 3 جائزہ پروگرام مکمل کیے ہیں۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام اصلاحات اور شفافیت کے حوالے سے ہی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر کی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو آزاد کشمیر پر تبصرے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا چاہیے۔
غزہ کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا بیان غزہ بورڈ آف پیس کے فیصلے کے لیے دھچکا ہے۔





