اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے کوآرڈی نیٹر اور مسلم لیگ ن کے رہنما اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت سب سے زیادہ امن و امان کے مسئلے کا سامنا ہے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے سہولت کاروں کے خلاف مزید تاخیر کیے بغیر کارروائی ہونی چاہیے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے تمام سیاسی مطالبات تسلیم کرلیے گئے تھے، تاہم بات چیت کے عمل سے یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی آئی کے عزائم محض سیاسی نوعیت کے نہیں تھے۔
وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر کے مطابق مذاکرات میں تحریک انصاف سے خیبرپختونخوا میں امن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی امن و امان کی صورتحال انتہائی اہم ہے اور اس مسئلے پر سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے عملی اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے کچھ رہنما نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حامی تھے، تاہم جب اس معاملے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے منظوری لینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے اسے مسترد کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں سیاسی امور پر پیش رفت ہوئی اور پی ٹی آئی کے مطالبات بھی مان لیے گئے، لیکن خیبرپختونخوا میں امن و امان کے معاملے پر صوبائی حکومت کی طرف سے مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : وزیرداخلہ، گورنر ملاقات، بڑا فیصلہ ہوگیا
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے مسئلے کو مزید طول دینے کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ دہشتگردی کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔
وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ان کا مارچ اب خیبرپختونخوا میں گول گول گھومتا ہوا دکھائی دے گا۔
اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ امن و امان کے قیام کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت نہیں ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کے لیے نیشنل ایکشن پلان سمیت مؤثر اقدامات پر عملدرآمد ضروری ہے، جبکہ دہشتگردی کے سہولت کاروں کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کی جانی چاہیے۔





