وفاقی حکومت نے لائیو سٹاک شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے فارم ہاؤسزکے قیام کی منظوری دے دی، تقریباً 245 ملین مویشی موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5.5 کھرب روپے ہے،سالانہ تقریباً 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت پیدا ہوتا ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت لائیو سٹاک شعبے کی اصلاحات پر اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس ہوا، اس موقع پروزیراعظم نے لائیو سٹاک کے شعبے کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے اور شعبے میں نجی ماہرین کے ذریعے اصلاحات کی تیاری و نفاذ کی بھی منظوری دی ۔،
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مویشیوں کی برآمد کیلئے خصوصی فارم ہاؤسز قائم کئے جائیں، ان فارم ہاؤسز میں اعلیٰ نسل اور زیادہ پیداوار کے حامل مویشی درآمد کرکے برآمدات کیلئے ان کی نشوونما کی جائے، خصوصی فارم ہاؤسز کیلئے مویشیوں کی درآمد کو ڈیوٹی فری کیا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مذکورہ فارمز میں نشوونما کردہ مویشیوں کی برآمد یقینی بنانے کیلئے ٹیگنگ کا جدید نظام متعارف کروایا جائے، لائیو سٹاک شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے کارپوریٹ طرز پر تنظیم نو کی جائے اور اس مقصد کیلئے نجی ماہرین کے تجربے سے استفادہ کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی زرعی شعبے کا 60 فیصد سے زائد لائیو سٹاک پر مبنی ہے، شعبے میں برآمدات کی بھرپور استعداد موجود ہے۔ ملک سے منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کیلئے مقررہ اہداف کے ساتھ لائحہ عمل آئندہ دو ہفتے میں مرتب کرکے پیش کیا جائے۔
انہوں نے ملک بھر میں قائم مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن یقینی بنانے اور بین الاقوامی معیار کیلئے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرانے کی ہدایت بھی کی، انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک میں بیماریوں کے خاتمے کیلئے وزارت قومی غذائی تحفظ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔
شہباز شریف نے گوشت اور لائیو سٹاک کی برآمدی صنعت کی مزید ترقی کیلئے پوری ویلیو چین کی بہتری پر کام کرنے اور گوشت، لائیو سٹاک اور اس سے منسلک برآمدات کے اہداف متعین کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 245 ملین مویشی موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5.5 کھرب روپے ہے، لائیو سٹاک شعبہ قومی معیشت میں 14.97 فیصد اور زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ سالانہ تقریباً 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت پیدا ہوتا ہے۔
شرکا کو بتایا گیا کہ ملک کے تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندان لائیو سٹاک سے وابستہ ہیں، تاہم چھوٹے پیمانے پر مویشی پالنے کا رجحان اور بکھری ہوئی سپلائی چین برآمدی استعداد سے بھرپور استفادے میں رکاوٹ ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں گوشت کی برآمدات تقریباً 530 ملین ڈالر رہیں، جبکہ موجودہ برآمدات کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر کو جاتا ہے، ملائیشیا، سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک نئی اور توسیعی منڈیوں کے طور پر نمایاں امکانات رکھتے ہیں۔
شرکا کو لائیو سٹاک اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کیلئے حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں حیوانی بیماریوں کی نگرانی، جانوروں کی ٹریس ایبلٹی، منہ کھر کی بیماری سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کا قیام، ویکسی نیشن و بیماریوں کی ڈیجیٹل نگرانی، ایکسپورٹ گریڈ فارمز اور بین الاقوامی صحت و حلال سرٹیفکیشن کا نظام شامل ہے۔





