فروری میں رمضان المبارک کی آمد کے پیشِ نظر بیشتر نجی اسکولوں نے نئے تعلیمی سال کا آغاز ایک ماہ قبل، یکم دسمبر سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تعلیمی سیشن جلد شروع ہونے سے جہاں اسکولوں کو نصاب مکمل کرانے میں آسانی ہوگی، وہیں نجی پبلشرز کو بھی پرانا سلیبس فروخت کرنے کا موقع ملنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے تعلیمی سال سے نصاب کی تمام کتابیں تبدیل ہو جائیں گی، جبکہ نئے سلیبس کی کتابیں مارچ یا اپریل تک مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
اس صورت حال میں تعلیمی سیشن جلد شروع ہونے سے نجی پبلشرز کو پرانی کتابیں فروخت کرنے کا موقع ملے گا، جس سے انہیں کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی ہوا نکل گئی، کبوتر چوک میں سناٹا، قیادت غائب
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے تعلیمی شیڈول کے تحت نجی اسکولوں میں دسمبر کے بجائے نومبر میں فائنل ٹرم کے امتحانات لیے جائیں گے، تاکہ نئے تعلیمی سال کا آغاز مقررہ وقت سے پہلے کیا جا سکے۔
دوسری جانب اسکول مالکان کا مؤقف ہے کہ رمضان المبارک کے دوران تعلیمی اداروں کے اوقاتِ کار کم ہونے کے باعث نصاب مکمل کرانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی وجہ سے تعلیمی سیشن جلد شروع کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے، تاکہ طلبہ کو مکمل نصاب پڑھانے اور تعلیمی سرگرمیاں بروقت مکمل کرنے میں آسانی ہو۔
تاہم نئے تعلیمی سال کے جلد آغاز اور نصاب کی کتابوں میں تبدیلی کے حوالے سے والدین کے اخراجات اور پرانی کتابوں کی فروخت سے متعلق معاملات بھی توجہ طلب ہیں۔





