خستہ حال دیواریں، بوسیدہ چھتیں، بنوں میں معصوم بچیاں خوف کے سائے تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں واقع گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول عمر چکڈنڈان شدید انتظامی غفلت، خستہ حالی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، جس نے صوبے میں تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق حکومتی دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

 اسکول میں زیرِ تعلیم 400 سے زائد معصوم طالبات کا روشن مستقبل اور سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے، جہاں ایک طرف تدریسی عملے کا شدید قحط ہے تو دوسری جانب عمارت کی ابتر حالت کسی بھی وقت کسی بڑے انسانی tragedy کا سبب بن سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، 400 سے زائد طالبات کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمہ داری محض 5 اساتذہ کے کاندھوں پر ڈال دی گئی ہے، جس کی وجہ سے تدریسی عمل شدید متاثر ہو رہا ہے۔

 اس سے بھی بڑھ کر انسانی بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کی صورتِ حال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں طالبات کے لیے پورے اسکول میں صرف ایک ہی واش روم دستیاب ہے، جس کی وجہ سے بچیوں کو شدید ذہنی، جسمانی اور حفظانِ صحت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کروم بکس کی فراہمی صرف اور صرف میرٹ پر ہوگی، غریب اور امیر کے فرق کو ختم کریں گے، وزیراعظم

اسکول انتظامیہ اور اساتذہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ عمارت کے کمرے انتہائی پرانے، بوسیدہ اور خستہ حال ہو چکے ہیں۔

 چھتیں اور دیواریں اس حد تک گرنے کے قریب ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

 ہیڈ مسٹریس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اسکول کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر و مرمت، اضافی کمروں کی تعمیر اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کمشنر آفس بنوں کو متعدد تحریری درخواستیں بھیجی جا چکی ہیں۔

 مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ متعلقہ حکام اور انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور تاحال کوئی عمل درآمد یا شنوائی نہیں ہو سکی۔

علاقہ مکینوں، اساتذہ اور والدین نے صوبائی حکومت اور محکمۂ تعلیم خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ بنوں کے اس اسکول کی زبوں حالی کا فوری نوٹس لیا جائے، عمارت کی ازسرِنو تعمیر و مرمت کرائی جائے اور طالبات کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے اساتذہ کی کمی کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔

Scroll to Top