پشاور: محکمہ صحت میں مبینہ انتظامی غفلت کے باعث ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) پشاور کے 453 ملازمین گزشتہ عرصے سے تنخواہوں سے محروم ہیں، جس کے باعث ہیلتھ سروسز متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ نے تین سال قبل ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے نئے بجٹ ہیڈز فراہم کیے تھے، تاہم اکاؤنٹس برانچ کی جانب سے متعدد ملازمین کو نئے ہیڈز میں منتقل نہیں کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں محکمہ خزانہ نے پرانے تین بجٹ ہیڈز بلاک کر دیے، جس کے نتیجے میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی رک گئی۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کا پشاور میں احتجاجی جلسہ آج، تیاریاں مکمل؛ سیکیورٹی پلان بھی مرتب
تنخواہوں کی بندش سے تھیبتنی، گاڑھا تاجک اور بڈھ بیر سمیت مختلف رورل ہیلتھ سینٹرز اور بنیادی مراکز صحت کے ملازمین متاثر ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ملازمین میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ ملازمین ہیلتھ سروسز کے بائیکاٹ سمیت آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں۔
ملازمین کا مطالبہ ہے کہ تنخواہوں کی فوری بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ صحت کی سہولیات کا نظام متاثر نہ ہو۔





