پشاور: خیبر پختونخوا میں پولیس کا تفتیشی نظام کام کے بڑھتے بوجھ، محدود افرادی قوت اور ناکافی وسائل کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہوگیا ہے، جس کے باعث مقدمات کی معیاری تحقیقات ایک بڑا چیلنج بن گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بیشتر تھانوں میں تحقیقاتی افسران کی تعداد ضرورت سے کم ہے، جبکہ ایک تفتیشی افسر کے پاس بیک وقت 30 سے 50 یا بعض مصروف تھانوں میں اس سے بھی زائد مقدمات زیر تفتیش ہوتے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمات کی زیادہ تعداد کے باعث تحقیقاتی افسران ہر کیس کو مطلوبہ وقت نہیں دے پاتے، جس سے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے، گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور بروقت چالان عدالتوں میں جمع کرانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق جدید فرانزک سہولیات، ڈیجیٹل تفتیشی آلات، کرائم سین کٹس، گاڑیوں اور تربیت یافتہ عملے کی کمی بھی تحقیقات کے معیار کو متاثر کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا محکمہ صحت کے سینکڑوں ملازمین تنخواہوں سے محروم
کمزور تفتیش کے باعث بعض مقدمات عدالتوں میں مطلوبہ معیار پر ثابت نہیں ہو پاتے، جس سے متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر اور ملزمان کے بری ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
پولیس کی جانب سے متعدد بار تھانہ سطح پر تفتیشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، تحقیقاتی افسران کی تعداد بڑھانے، جدید فرانزک سہولیات فراہم کرنے اور انویسٹی گیشن ونگ کو مزید وسائل دینے کی سفارشات پیش کی جا چکی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق ان سفارشات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
پولیس حکام کے مطابق مؤثر تفتیش کے لیے جدید سہولیات، تربیت یافتہ عملہ اور مناسب وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ مقدمات کی بہتر تحقیقات اور انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔





