کالعدم تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کی جانب سے جاری کردہ 22 سے 27 منٹ طویل ویڈیو کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع اور دفاعی ماہرین نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل کی جانے والی یہ فٹیج دراصل جولائی 2021ء (پی ٹی آئی حکومت کے دور) کی ہے جسے اب سوچی سمجھی سازش کے تحت نیا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ویڈیو میں پاکستان کے اضلاع خیبر اور کرم کے جن علاقوں کا دعویٰ کیا گیا ہےوہ حقیقت میں افغان سرحد کے اندرونی مناظر ہیں۔
سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی حدود میں ان کا کوئی علاقائی کنٹرول نہیں ہے اور اس طرح کے من گھڑت مواد کا مقصد صرف عوام میں عدم تحفظ اور خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ی
یہ بھی پڑھیں : آواران میں مقامی لوگوں نے دہشت گردوں کی اغوا کی کوشش ناکام بنادی
سیکیورٹی ذرائع نے شہریوں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ وہ دشمن عناصر کے اس نفسیاتی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور بغیر تصدیق کے کسی بھی گمراہ کن مواد کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔





