آواران کے علاقے لوئر آواران میں رات گئے کالعدم بی ایل ایف (بلوچستان لبریشن فرنٹ) کے دہشت گردوں کی جانب سے مقامی سول ٹھیکیدار کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، جہاں علاقہ مکینوں نے بہادری کی مثال قائم کرتے ہوئے حملہ آوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
زرائع کےمطابق 2 اگست کی رات بی ایل ایف کے نام نہاد لوکل ایریا کمانڈر اختر علی شیر نے اپنے مسلح گروہ کے ہمراہ مقامی ٹھیکیدار کے گھر پر حملہ کیا۔ اس موقع پر پورے علاقے کے لوگوں نے متحد ہو کر دہشت گردوں کی پیش قدمی روکی اور شدید مزاحمت کے دوران بی ایل ایف کمانڈر کو اسی کے اسلحے سے ہلاک کر دیا۔ اپنے کمانڈر کی لاش موقع پر چھوڑ کر دیگر زخمی دہشت گرد فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
دہشت گردوں کے خلاف اس بے خوف مزاحمت کے دوران ٹھیکیدار شدید زخمی ہو گیا جبکہ ان کے بڑے بھائی نے خالی ہاتھ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنے میں مسلسل ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے اب اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے نہتے اور بے گناہ بلوچ شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سرکاری حج اسکیم 2027: درخواستیں کب سے موصول کی جائیں گی؟ اہم خبر آگئی
آواران کے عوام کی اس بے مثال مزاحمت نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور علاقے میں امن و خوشحالی کی خواہش مند ہے۔





