افغانستان کے صوبہ بدخشاں کی تحصیل نسی میں طالبان انتظامیہ اور ان کے سابق اہم کمانڈر جمعہ خان فاتح کے جنگجوؤں کے درمیان سونے کی کانوں پر قبضے اور سیاسی اثر و رسوخ کے تنازع پر خونریز جنگ چھڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان تنازع اس وقت شروع ہوا جب طالبان کے ایک دستے نے جمعہ خان کے زیر اثر علاقے میں داخل ہو کر ان سے سرکاری گاڑیاں اور اسلحہ واپس مانگا۔ انکار پر دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جو تحصیل نسی کے علاقوں خوغز، دوابگی، خونیس اور ایل رمہ تک پھیل گیا۔
مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان جھڑپوں میں طالبان کی سپیشل فورسز کے 7 اہلکار ہلاک اور 11 زخمی ہوئے جبکہ جمعہ خان فاتح کا 1 جنگجو ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔
طالبان نے اپنے ہلاک و زخمی جنگجوؤں کی منتقلی کے لیے علاقے میں ہیلی کاپٹر روانہ کر دیے ہیں جن کی ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔
لڑائی کے دوران جمعہ خان فاتح سے منسوب ایک آڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے جس میں وہ اپنے مسلح ساتھیوں کو مکمل جنگ اور حملوں کے منصوبوں پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سوراب : فتنہ الہندوستان کی جانب سے بارودی مواد تیار کرنے کے دوران دھماکہ،18دہشتگرد ہلاک، 3 شہری جاں بحق،آئی ایس پی آر
واضح رہے کہ جمعہ خان فاتح اور طالبان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے سونے کی کانوں کے کنٹرول پر شدید اختلافات چلے آ رہے ہیں۔ طالبان نے انہیں جون کے مہینے میں زابل کے نائب گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد سے انہوں نے بدخشان کے سرحدی علاقوں میں اپنی الگ فورس قائم کر رکھی ہے۔





