خیبرپختونخوا حکومت کا مجوزہ پولیس ایکٹ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے،بیرسٹر عقیل ملک

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026ء کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا مجوزہ پولیس ایکٹ مکمل طور پر سیاسی بنایا گیا ہے اور پولیس فورس کو اپنے تابع لانے کے لیے یہ ترمیم لائی جا رہی ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا کہ پاکستان پولیس سروس (پی ایس پی) افسران کی تعیناتی کا اختیار صرف وفاق کے پاس ہے اور خیبرپختونخوا کابینہ کے پاس ایسا قانون پاس کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے خود سے پی ایس پی افسران کی تعیناتی پر عملدرآمد نہیں کر سکتے اور نیا رواج قائم کرنے کی یہ کوشش مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

وزیر مملکت نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے سرکس لگا ہوا ہے۔ ایک طرف صوبے میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف یہ احتجاج میں مصروف ہیں اور اب پولیس کو اپنے سیاسی تابع لانے کے لیے ایکٹ پاس کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بھی اس مجوزہ قانون کو آئین اور پی ایس پی قواعد سے متصادم قرار دیا ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی والے پولیس کو اپنا عسکری ونگ اور ٹائیگر فورس بنانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا انتظامی حوالے سے لاوارث ہو چکا ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پولیس کو انتشار اور فساد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا بنایا ہوا یہ قانون وفاقی حکومت کے ساتھ براہ راست تصادم کی کوشش ہے اور یہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کا مواد فراہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا کے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کااعلان

انہوں نے کہا کہ وفاق آخری حد تک صبر کرے گا اور جب تک صوبے کے لوگ اور سیاسی جماعتیں خود نہیں بولیں گی، تب تک گورنر راج نہیں لگایا جائے گا۔

Scroll to Top