عدالت نے ای میل کے ذریعے طلاق دینے والے شوہر کا مؤقف مسترد کر دیا

لاہور ہائیکورٹ نے ای میل کے ذریعے طلاق دینے کے معاملے میں شوہر راحیل احمد کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے ان کی درخواست خارج کر دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ مذاق میں طلاق دینے کا دعویٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور خاتون کو اس کی ازدواجی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی صورت حال میں نہیں رکھا جا سکتا۔

جسٹس انوار حسین نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلے میں یونین کونسل کی جانب سے طلاق مؤثر ہونے کے سرٹیفکیٹ کو برقرار رکھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر شوہر طلاق کی اطلاع یونین کونسل کو نہیں دیتا تو بیوی خود بھی متعلقہ یونین کونسل کو طلاق سے آگاہ کر سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر اپنی قانونی غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طلاق کے عمل کو روک نہیں سکتا، عدالت کے مطابق طلاق کے بعد مقررہ 90 روزہ مصالحتی عمل کا مقصد فریقین کو مصالحت کا موقع فراہم کرنا ہے نہ کہ ان کے درمیان غیر یقینی صورت حال پیدا کرنا۔

یہ بھی پڑھیں: دانش تیمور نے عائزہ خان سے طلاق کی افواہوں پر خاموشی توڑ دی

لاہور ہائیکورٹ نے حکومت کو طلاق سے متعلق قانون میں ترمیم کے معاملے پر غور کرنے کی سفارش بھی کی، عدالت نے فیصلے کی نقل پنجاب کی تمام فیملی کورٹس کو رہنمائی کے لیے بھجوانے کا حکم دیا۔

عدالتی فیصلے میں ازدواجی حیثیت کے تعین اور طلاق کے قانونی عمل میں وضاحت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

Scroll to Top