وزیرستان: جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل اور توئی خلہ میں گزشتہ 14 ماہ کے دوران پولیو اور دیگر حفاظتی ٹیکہ جات کی مہمات میں مبینہ غفلت اور بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں۔
مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان علاقوں میں بعض بچے ضروری ویکسین سے محروم رہ گئے، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں مہمات کی مکمل کوریج ظاہر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ ستمبر میں چلائی جانے والی پولیو مہم کے دوران بعض علاقوں میں مبینہ طور پر بچوں کو قطرے پلانے کے بجائے ان کی انگلیوں پر نشانات لگا دیے گئے۔ اسی طرح مقررہ اہداف کی تکمیل ظاہر کرنے کے لیے ویکسین کے مبینہ ضیاع کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : منہ کھول دیا تو سب بے نقاب ہو جائیں گے،علی امین گنڈا پور کا سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیو اور دیگر حفاظتی ٹیکہ جات کی مہمات کے دوران زمینی حقائق اور سرکاری دستاویزات میں مبینہ فرق پایا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں ویکسینیشن ٹیموں کی رسائی، بچوں کی اصل تعداد، ویکسین کے استعمال اور مہمات کی مؤثر نگرانی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ان شکایات کے تناظر میں ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور سے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک آزاد تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے، جو تحصیل برمل اور توئی خلہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے فیلڈ آڈٹ کرے اور سرکاری ریکارڈ کا زمینی صورتحال سے موازنہ کرے۔
مقامی حلقوں نے عالمی ادارہ صحت (WHO)، یونیسیف (UNICEF)، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سے بھی اپیل کی ہے کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران ہونے والی پولیو اور دیگر حفاظتی ٹیکہ جات کی مہمات کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں مارخور کے چار پرمٹس تاریخی قیمت پر نیلام
ان کا مطالبہ ہے کہ ویکسینیشن ٹیموں کے ریکارڈ، بچوں کی فہرستوں، ویکسین کے استعمال، مائیکرو پلانز، مانیٹرنگ رپورٹس اور فیلڈ میں ہونے والی ویکسینیشن کی حقیقی کوریج کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مقامی افراد کے مطابق پولیو کا خاتمہ اور بچوں کو دیگر مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنا ایک اہم عوامی صحت کا معاملہ ہے۔
اس لیے ویکسینیشن میں مبینہ غفلت یا ریکارڈ میں جعلی کوریج ظاہر کیے جانے کے الزامات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
مقامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں اگر کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو جائے تو اس میں ملوث ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ مستقبل میں حفاظتی ٹیکہ جات کی مہمات کو مؤثر، شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔





