خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی مسترد:ہماری پالیسیاں کابل اور قندھار سے نہیں اسلام آباد سے آئیں گی،گورنر فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاق کے مکمل اعتماد کے بعد اب تمام پالیسیاں قندھار یا جلال آباد کے بجائے اسلام آباد سے آئیں گی جن پر من و عن عملدرآمد کرایا جائے گا۔

پشاور میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کے 13 سالہ دور کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے سے 13 سال کے گند کی صفائی شروع کر دی گئی ہے اور اب یہاں کسی کی بدمعاشی یا غنڈہ گردی نہیں چلنے دی جائے گی۔

گورنر کے پی نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے صوبے میں جوسرکس چل رہا تھا عوام اس سے شدید بے زار ہو چکے تھے اور انہوں نے پی ٹی آئی کی نفرت و انتہا پسندی کی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

گورنر ہاؤس پر چڑھائی کے دعوؤں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے کنٹینرز سڑکوں پر لاوارث پڑے ہیں، میں خود انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی آئے اور انہیں لے جائے، گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کے دعویدار بھی اب غائب ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی اس وقت سرکاری تحویل میں ہیں اور اگر ان پر کوئی کیس ہوا تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ بے گناہ افراد کو وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر رہا کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے مالیاتی ریکارڈ پر سوال اٹھاتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سابقہ حکومت وفاق سے صوبے کا مقدمہ لڑنے میں مکمل ناکام رہی، خیبرپختونخوا پولیس کی 42 ارب روپے کی ڈیمانڈ پوری نہیں کی گئی اور پی ٹی آئی قیادت صرف پیسے نہ ملنے کا واویلا کرتی رہی، قوم کو بتایا جائے کہ جو اربوں روپے صوبے کو ملے وہ کہاں گئے؟

انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر اے آئی (AI) ویڈیوز اور پرانی تصویروں کے ذریعے بدامنی اور افراتفری پھیلانے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

گورنر خیبر پختونخوا نے اعلان کیا کہ ہماری پہلی ترجیح پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں اضافہ ہے، خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر لائی جائیں گی اور شہدا پیکیج میں نمایاں اضافہ ہوگا، اس سلسلہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس کو 10 جدید گاڑیاں بھی فراہم کر دی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف جلد خیبر پختونخوا کا دورہ کریں گے جہاں ان کے سامنے صوبے کے مقدمات رکھے جائیں گے۔

اس کے علاوہ ینگ ڈاکٹرز پر مسلط مافیا کا خاتمہ کر کے ان کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں اور اسلام آباد سمیت صوبے بھر سے کنٹینرز ہٹا کر تمام راستے کھولنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

Scroll to Top