اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 2021 میں اقتدار پر قبضے کے بعد 24 لاکھ افغان لڑکیوں کو ثانوی تعلیم سے محروم کیا جاچکا ہے۔
یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں اور خواتین پر ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر باضابطہ پابندی عائد ہے، 2021 میں امریکہ اور اتحادیوں کے انخلا کے دوران طالبان نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی تھی کہ خواتین اور لڑکیوں کو اسکول اور تعلیم جاری رکھنے کی آزادی ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وعدوں کے باوجود مارچ 2022 میں لڑکیوں کے لئے ثانوی سکول بند کر دیئے گئے جبکہ دسمبر 2022 میں خواتین پر یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کی پابندی عائد کردی گئی، طالبان نے دونوں پابندیوں کو عارضی قرار دیا تھا تاہم یہ پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے میڈیکل ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ پر پابندی غیر منصفانہ ہے، نثار باز خان
یونیسکو کے مطابق طالبان کی جانب سے خواتین کے روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت پر بھی پابندیاں عائد ہیں، طالبان کا مؤقف ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔
یونیسکو کے مطابق افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی سے خواتین اساتذہ کی پہلے سے موجود کمی مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے،افغانستان میں 10 سال کی عمر کے 90 فیصد سے زائد بچے سادہ عبارت پڑھنے سے بھی قاصر ہیں جبکہ ملک میں شرح خواندگی صرف 37 فیصد ہے،افغانستان کے بہت سے سکولوں میں طلبہ کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے اور بنیادی سہولیات بھی ناکافی ہیں۔





