پشاور: خیبر پختونخوا میں نئی انتظامی تحویل کے بعد صوبے کی محرومیوں کے مداوا اور دیرپا ترقی کے لیے وفاق کی جانب سے تاریخی کاوشوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
تحریکِ انتشار کی گزشتہ 13 سالہ ناکام، بدعنوان اور تباہ کن پالیسیوں کے نتیجے میں تعمیر و ترقی سے محروم رہنے والے اس صوبے پر وفاقی حکومت کی توجہ مرکوز ہو چکی ہے۔
قومی ایپکس کمیٹی کے اہم اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی خصوصی درخواست پر صوبے کے لیے 160 ارب روپے کے تاریخ ساز ترقیاتی اور سیکیورٹی پیکج کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
یہ تاریخی پیکج جہاں صوبے کے پسماندہ علاقوں کی تقدیر بدلے گا، وہیں سیکیورٹی اداروں کو طاقتور بنا کر امن و امان کی خراب صورت حال پر قابو پانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے پیکج کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ نئے سیٹ اپ کی سب سے پہلی اور اہم ترین ترجیح صوبے میں امن و امان کی بحالی ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
اس عظیم مقصد کے لیے صوبائی پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے گا اور انہیں ہر قسم کا جدید ترین سیکیورٹی سازوسامان فراہم کیا جائے گا تاکہ پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کا ثمر امن کی صورت میں عوام تک پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف یکم نومبر سے حتمی کریک ڈاؤن کا آغاز کرنے کا فیصلہ
پیکج کی حکمتِ عملی کے تحت کل رقم کا 70 فیصد حصہ تحریکِ انتشار کے دور میں بدترین غفلت کا شکار رہنے والے ضم اضلاع پر خرچ ہوگا، جبکہ باقی 30 فیصد رقم صوبے کے دیگر اضلاع میں شفافیت کے ساتھ تقسیم کی جائے گی۔
تعلیمی اور انفراسٹرکچر کے میدان میں صوبے کو خودکفیل بنانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے باجوڑ، لکی مروت اور چترال میں جدید دانش اسکولز قائم کرنے کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جدید ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو فنی و معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔
دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کی خصوصی کونسل کے رکن اور ترجمان محمود جان بابر کے مطابق وفاق نے ان اضلاع کی محرومیوں کا ازالہ شروع کر دیا ہے۔
پیکج کی بنیادی روح تعلیم، صحت، روزگار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے گرد گھومتی ہے، جس سے نہ صرف پسماندہ علاقوں میں عوامی سہولیات کا معیار بلند ہوگا بلکہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے شاندار مواقع میسر آئیں گے اور صوبہ بالآخر ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔





