خون کے کینسر میں مبتلا بنگلہ دیشی نوجوان کرکٹر انتقال کر گئے، علاج کے لیے ڈھاکا منتقلی کے دوران دم توڑ دیا

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی انڈر 18 کرکٹ ٹیم کے نوجوان فاسٹ بولر مہدی حسن ہردوئے خون کے کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔ انہیں بہتر علاج کے لیے ڈھاکا منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی ایمبولینس میں زندگی کی بازی ہار گئے۔

بنگلہ دیشی میڈیا ’بنگلہ نیوز 24‘ کے مطابق مہدی حسن ہردوئے چٹاگانگ ڈویژن کی انڈر 18 ٹیم کا حصہ تھے اور خون کے کینسر کی ایک سنگین قسم ’ایکیوٹ مائیلوئیڈ لیوکیمیا‘ میں مبتلا تھے۔ طبی سہولیات کی غرض سے انہیں ڈھاکا لے جایا جا رہا تھا، لیکن دورانِ سفر ان کی حالت جانبر نہ ہوسکی۔

بائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کرنے والے مہدی حسن ہردوئے کو چٹاگانگ کی جونیئر کرکٹ میں ایک باصلاحیت اور ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر نے کرکٹ حلقوں اور ان کے چاہنے والوں کو سوگوار کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا بڑا ترقیاتی پیکج، فنڈز کن علاقوں میں خرچ ہوں گے؟ جانیے

رپورٹس کے مطابق رواں سال جولائی میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل نے نوجوان کرکٹر کے علاج کے لیے پانچ، پانچ لاکھ ٹکا کی مالی امداد فراہم کی تھی۔ تاہم علاج کی کوششوں کے باوجود ان کی جان نہیں بچائی جاسکی۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے مہدی حسن ہردوئے کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔ نوجوان کھلاڑی کی وفات پر ان کے اہل خانہ، عزیز و اقارب اور بنگلہ دیش کی کرکٹ برادری غمزدہ ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال 7 جولائی کو افغانستان کے سابق فاسٹ بولر شاپور زدران بھی 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور بھارت کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے دوران دم توڑ گئے تھے۔

Scroll to Top