ملک بھر میں موبائل فون صارفین پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل برقرار ہے جہاں ہر ریچارج پر رقم کا ایک بڑا حصہ حکومتی خزانوں کی نذر ہو جاتا ہے اور صارفین کو پورا بیلنس استعمال کے لیے میسر نہیں آتا۔
پاکستان میں موبائل بیلنس لوڈ کروانے پر مجموعی طور پر تقریباً 34.5 فیصد تک مختلف ٹیکسز وصول کیے جا رہے ہیں۔ حساب کتاب کے مطابق جب کوئی صارف 100 روپے کا کارڈ یا ایزی لوڈ کرواتا ہے تو اسے تمام کٹوتیوں کے بعد تقریباً 72.77 روپے کا نیٹ بیلنس ملتا ہےجبکہ 27.23 روپے ٹیکس کی مد میںکاٹ دیئےجاتے ہیں۔
ٹیکسوں کی شرح کے مطابق 100 روپے کے ریچارج پر سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس (AIT) لاگو ہوتا ہےجس سے تقریباً 13.04 روپے کٹ جاتے ہیں۔ اس کے بعد باقی بچنے والی رقم پر 19.5 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو تقریباً 14.19 روپے بنتا ہے۔ یوں ان دونوں ٹیکسوں کی ملا جلا کر صارف کی جیب پر بڑا بوجھ پڑتا ہے۔
موجودہ دور میں موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال محض تفریح نہیں بلکہ طلبہ، آن لائن کام کرنے والوں اور کاروباری طبقات کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی اے نے موبائل صارفین کے لیے اہم ہدایات جاری کر دیں
ایسے میں عوام کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے دور میں یہ بھاری ٹیکس اضافی مالی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ٹیلی کام سیکٹر پر عائد ان ٹیکسوں میں فوری کمی کرے تاکہ عام شہریوں کو راحت مل سکے۔





