شہزاد نوید
سوات: کبل پولیس اسٹیشن کے مین گیٹ کے سامنے ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس ٹریننگ اسکول سوات میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
پولیس ترجمان کے مطابق دھماکے میں مزید 2 زخمی پولیس اہلکار دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے، جس کے بعد شہداء کی تعداد 17 ہوگئی۔ جاں بحق افراد میں 7 پولیس اہلکار اور 10 عام شہری شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق سیدو شریف ہسپتال میں دھماکے سے زخمی ہونے والے 10 افراد زیر علاج ہیں، جن میں 8 پولیس اہلکار اور 2 شہری شامل ہیں، جبکہ 3 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق کبل خودکش دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا ہے، جس میں نامعلوم دہشت گردوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
شہداء کی نماز جنازہ ادا
تھانہ کبل کے مین گیٹ کے سامنے دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے خودکش حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس ٹریننگ اسکول سوات میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔
نماز جنازہ میں ایڈیشنل آئی جی پی سی ٹی ڈی جواد قمر، کمشنر ملاکنڈ مسعود احمد، آر پی او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ، کمانڈر 6 بریگیڈ بریگیڈیئر عامر جمال، ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت، ڈی پی او سوات محمد عمر خان، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد سمیت پولیس، انتظامیہ اور پاک فوج کے افسران نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا پولیس میں بڑا فیصلہ، انوسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ کرنے کا اعلان
اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، جبکہ شہداء کی جسد خاکی پر پھولوں کے گلدستے رکھے گئے اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ شہداء کے بلند درجات کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔
نماز جنازہ کے بعد شہداء کی میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔
کبل خودکش حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں میں اے ایس آئی ہاشم خان، کانسٹیبل خالد خان، کانسٹیبل عثمان غنی، کانسٹیبل امین اللہ اور کانسٹیبل وطن خان شامل ہیں۔





