مارچ یا وزارتِ اعلیٰ؟ سہیل آفریدی کرسی بچانے کیلئے ہٹ دھرمی پر اتر آئے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے پر مؤقف برقرار ہے، جبکہ پارٹی کے اندر مارچ کی تیاریوں اور ارکان کی شرکت کے حوالے سے تحفظات بھی سامنے آچکے ہیں، اس کے باوجود وزیراعلیٰ 4 اکتوبر کو مارچ ہر صورت نکالنے پر قائم ہیں۔

شہریوںکا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی لانگ مارچ کے لیے غیر معمولی سختی کے پیچھے صرف پارٹی پالیسی ہے یا ان کی اپنی سیاسی بقا بھی اس سے جڑی ہوئی ہے۔

وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی نے خود کو پارٹی کی احتجاجی سیاست کے ساتھ جوڑ لیا ہے اور اگر وہ لانگ مارچ کی قیادت میں مطلوبہ کردار ادا نہ کرسکے تو پارٹی کے اندر ان کی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے لیے لانگ مارچ محض ایک سیاسی احتجاج نہیں بلکہ وزارتِ اعلیٰ برقرار رکھنے کا امتحان بھی بن چکا ہے۔

اگر وہ پارٹی قیادت کی توقعات کے مطابق اسلام آباد مارچ نہ لے کر نکلے تو انہیں وزارتِ اعلیٰ سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں،

یہ بھی  پڑھیں : علی امین گنڈاپور کا لانگ مارچ، دعوے لاکھوں کے مگر میدان میں سناٹا: بڑے دعوے بے نقاب

دوسری جانب پی ٹی آئی کے بعض ارکان کی جانب سے مارچ کی تیاریوں میں عدم دلچسپی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے پارٹی پارلیمانی اجلاس میں بعض ارکان کی کم دلچسپی پر ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ کچھ ارکان اجلاس میں بالمشافہ شرکت کے بجائے آن لائن شریک ہوئے۔

سوا ل یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سیاسی دباؤ کے تحت لانگ مارچ پر اصرار جاری رکھتے ہیں یا صوبے کی حکمرانی اور امن و امان کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہیں۔ دوسری طرف سہیل آفریدی مسلسل 4 اکتوبر کے مارچ پر اپنے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔

Scroll to Top