سہیل آفریدی حکومت میں جنگلات کی مبینہ کٹائی عروج پر، ٹمبر مافیا اور وزرا کے گٹھ جوڑ کے الزامات

خیبرپختونخوا میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور ٹمبر مافیا کی مبینہ سرگرمیوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مقامی شہریوں اور ذرائع کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوات اور شمالی علاقوں میں قیمتی درختوں کی کٹائی اور لکڑی کی غیر قانونی ترسیل جاری ہے، جبکہ بعض حکومتی شخصیات پر مبینہ سرپرستی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق سوات سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر شمالی علاقوں میں ٹمبر مافیا کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ قیمتی درخت کاٹے جا رہے ہیں اور لکڑی کو مختلف راستوں سے صوبے سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو نہ روکا گیا تو اس کے ماحول پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جنگلات میں کمی کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر ماحولیاتی خطرات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور غیر قانونی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں : مارچ یا وزارتِ اعلیٰ؟ سہیل آفریدی کرسی بچانے کیلئے ہٹ دھرمی پر اتر آئے

دوسری جانب صوبائی حکومت کی گڈ گورننس اور قانون کی عملداری کے حوالے سے بھی سیاسی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جنگلات جیسے قدرتی وسائل کا تحفظ صوبائی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت سے قومی و صوبائی اثاثوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شہریوںنے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلات کی کٹائی اور ٹمبر مافیا کی مبینہ سرگرمیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی سیاسی یا غیر سیاسی شخصیت کا کردار ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔

Scroll to Top