موٹروے اور جی ٹی روڈ کی بندش، خیبر پختونخوا میں اشیائے خورونوش کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ کے تناظر میں خیبر پختونخوا کو پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والے اہم زمینی راستوں کی بندش کے باعث صوبے میں اشیائے خورونوش کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات سامنے آ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے درمیان آمد و رفت کے لیے اہم سمجھی جانے والی موٹر وے ایم ون سمیت بعض دیگر شاہراہوں کو سیکیورٹی انتظامات کے تحت بند کیا گیا ہے۔

ایم ون کو اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے بند کیے جانے کی اطلاع ہے، جبکہ جی ٹی روڈ کو اٹک خورد کے مقام پر بند کیا گیا ہے

خیبر پختونخوا کے لیے ملک کے دیگر حصوں سے دال، چاول، گھی، چینی اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی ترسیل میں موٹر وے ایم ون ایک اہم ذریعہ ہے۔

تجارتی سرگرمیوں اور سامان کی نقل و حمل میں رکاوٹ برقرار رہنے کی صورت میں مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور پولیس نے ایک اور مشہور ٹک ٹاکر کو حراست میں لے لیا

مارکیٹ ذرائع کے مطابق اگر پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں سے خیبر پختونخوا آنے والے تجارتی سامان کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہی تو اس کے اثرات مقامی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔

خصوصاً دال، چاول اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی سپلائی میں کمی کی صورت میں آنے والے دنوں میں بعض اشیا کی دستیابی متاثر ہونے اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

حالیہ رپورٹنگ میں بھی ایم ون کی بندش کے باعث خیبر پختونخوا میں خوراک کی سپلائی، ممکنہ قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔

دکانداروں اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کے باعث صارفین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں اگر تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت اور اشیائے ضروریہ کی سپلائی مزید متاثر ہوئی تو مارکیٹ میں قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب دستیاب معلومات کے مطابق خیبر پختونخوا کے اندر پشاور، نوشہرہ، مردان اور کوہاٹ سمیت مختلف شہروں کے درمیان عام تجارتی ٹرکوں کی مکمل آمد و رفت روکنے سے متعلق کسی نئے عمومی فیصلے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ تاہم صوبے کو پنجاب اور وفاقی دارالحکومت سے ملانے والے اہم راستوں کی بندش نے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز میں تشویش پیدا کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم شہبازشریف کا امیر جماعت اسلامی سے اہم رابطہ، لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست

ادھر پاک افغان سرحدی صورتحال بھی خیبر پختونخوا میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک الگ چیلنج بنی ہوئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز افغان سرحد کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز کو مار گرایا گیا، جن میں چار طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں اور مزید چار کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں گرائے جانے کی اطلاع ہے۔

اسی روز کوہاٹ سے متصل ضلع کرم کے سرحدی علاقے میں افغانستان سے دراندازی کی کوشش اور فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان واقعات کے باعث خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

دوسری طرف طورخم اور دیگر پاک افغان تجارتی کراسنگ پوائنٹس کی طویل بندش پہلے ہی خیبر پختونخوا کے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور کلیئرنگ ایجنٹس کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔

حالیہ رپورٹنگ کے مطابق سرحدی تجارت میں رکاوٹ سے صوبے سے وابستہ کاروباری حلقے متاثر ہوئے ہیں۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ایک طرف پاک افغان تجارتی راستوں کی بندش اور دوسری جانب ملک کے اندر اہم شاہراہوں پر ممکنہ یا موجودہ رکاوٹیں تجارتی سرگرمیوں کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہیں۔

ان کے مطابق اشیائے خورونوش کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ مارکیٹ میں قلت پیدا نہ ہو اور صارفین کو مزید مہنگائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

خیبر پختونخوا کے شہریوں اور تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں اور جہاں ممکن ہو تجارتی ٹریفک کی روانی بحال رکھی جائے، تاکہ سپلائی چین متاثر ہونے سے مارکیٹ میں قلت یا قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

Scroll to Top