انتشاری مارچ کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کا دھندا رکنے لگا تو سہیل آفریدی کابینہ نے ریاست مخالف محاذ کھول لیا

پشاور: خیبر پختونخوا میں اقتدار کے خاتمے کے خوف اور انتشاری  مارچ کی عبرت ناک ناکامی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کی انتشاری قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ’ایکس‘ پر کھوکھلی دھمکیاں دینے پر اتر آئی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو یہ واضح طور پر محسوس ہونے لگا ہے کہ ان کی حکومت کا سورج غروب ہونے والا ہے اور اسی شدید خوف کے باعث اس سیاسی ٹولے کی حالت انتہائی قابلِ رحم ہو چکی ہے۔

صارفین کے مطابق اقتدار کے چھن جانے کے ہولناک تصور نے ان کا ذہنی توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کی مثال اس پر پوری اترتی ہے کہ ’رسی جل گئی پر بل نہ گیا‘، کیونکہ عوام کی طرف سے مکمل مسترد کیے جانے کے باوجود ان کا تکبر اور غرور بدستور قائم ہے۔

 انتشاری  مارچ کی ناکامی اور سوشل میڈیا تک محدود سیاست

سوشل میڈیا صارفین کے مطابق عوام نے پی ٹی آئی  کے انتشاری مارچ کو پاؤں تلے روندتے ہوئے بری طرح مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد یہ عناصر اب زمینی حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے صرف سوشل میڈیا اور ٹویٹس کی حد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ساڑھے 13 سال میں خیبرپختونخوا کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا، عطا اللہ تارڑ پی ٹی آئی پر برس پڑے

شدید حواس باختگی کے عالم میں اب پی ٹی آئی رہنما اب سوشل میڈیا پر کھلم کھلا دھمکیاں اور تڑیاں دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین اپنے ریمارکس میں کہہ رہے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ عوام کا ساتھ مکمل طور پر چھوٹ جانے کے بعد وہ اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لیے محض دھمکیوں کے ذریعے ماحول گرمانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں، لیکن ان کا یہ تماشا اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا ہے۔

قانون کی آہنی گرفت اور ریاستی نوٹس

دوسری جانب ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان تمام کھوکھلی دھمکیوں اور تڑیوں کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔

 صوبے میں سیکیورٹی اور امن و امان کی بحالی کے سخت اقدامات اٹھائے جانے کے بعد ان گیدڑ بھپکیوں کی قانون کے سامنے کوئی حیثیت نہیں بچی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی لانگ مارچ کو بڑا دھچکا، کارکنوں نے منہ موڑ لیا، قیادت سر پکڑ کر بیٹھ گئی

سوشل میڈیا صارفین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ قانون کی آہنی گرفت سے اب یہ شرپسند عناصر کسی صورت نہیں بچ سکیں گے اور ان کی یہ ایکس کی جنگ ان کے اپنے ہی گلے پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کے غیور عوام ان کے اس منافقانہ اور متکبرانہ چہرے کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں، اسی لیے اب ان کا کوئی بھی ڈراما، ٹویٹ یا دھمکی کارگر ثابت نہیں ہوگی۔

ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے جاری سیاسی کشمکش اور حکومتی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کے تناظر میں سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی عروج پر ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ عرصے میں سیاسی دباؤ اور عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی دوری نے صوبائی حکومت کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی جماعتیں طاقت کے مظاہرے اور احتجاجی دباؤ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں بلکہ پورے صوبے میں لگے گی،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

واضح رہے کہ زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب سیاسی جماعتیں عوامی مقبولیت کھو دیتی ہیں اور اقتدار کے جانے کا خطرہ سر پر منڈلانے لگتا ہے، تو ان کا لائحہ عمل زمینی جدوجہد سے ہٹ کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور جارحانہ بیانیے تک محدود ہو جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا پر دی جانے والی یہ کھوکھلی دھمکیاں دراصل سیاسی ناکامی اور داخلی کمزوری کی پردہ پوشی کرنے کا ایک طریقہ ہیں۔

 قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت ردعمل اور عوامی لاتعلقی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب بلیک میلنگ یا دباؤ کی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے اور صوبے میں حکمرانی کے معیار کو آئین اور قانون کے دائرے میں ہی پرکھا جائے۔

Scroll to Top